منگل، 27 جولائی، 2021

شہادت خلیفہ سوم خلیفہ راشد حضرت سیدنا عثمانؓ ذوالنورین رضی اللہ‎ عنہ ۔


مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ وضع دار انسان تھے۔ان کا نام عثمان، کنیت ابو عمر اور لقب ذوالنورین (دو نور والے)تھا۔آپؓ کے والد کا اسم گرامی عفان بن ابی العاص تھا اور والدہ کا نام ارویٰ بنت کریز تھا۔آپؓ کی نانی امی ،جناب عبدالمطلب کی بیٹی تھیں اور حضرت محمد ﷺ اور حضرت علی ؓ کی پھوپھی تھیں۔آپؓ مکہ کے اعلیٰ ترین قبیلے قریش کی ایک شاخ بنوامیہ کے چشم و چراغ تھے۔آپ ؓکی پیدائش عام الفیل کے چھٹے سال ہوئی۔


حضرت عثمان ؓ سابقون الاولون یعنی سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے تھے اور آپ جناب سیدنا صدیق اکبرؓ کے ہاتھ پر ایمان لائے۔آپؓ کو عشرہ مبشرہ میں شامل ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔


نبی کریمﷺ نے ایک موقعے پر ارشاد فرمایا تھا کہ میں اس بندے سے حیا کیوں نہ کروں، جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں"۔


قبول اسلام کے کچھ ہی عرصہ بعد نبی کریم ﷺ نے اپنی پیاری صاحبزادی حضرت رقیہ ؓ کا نکاح حضرت عثمان ؓ سے فرما دیا۔یہ نکاح اتنا بابرکت تھا کہ مکہ میں عام لوگ کہا کرتے تھے کہ زمین پر سب سے بہترین جوڑا حضرت رقیہ  و عثمان کا ہے۔5 ھ میں آپ دونوں میاں بیوی کو ہجرت حبشہ کا شرف حاصل ہوا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "لوطؑ کے بعد یہ دونوں ہیں جنہوں نے اللہ کے لیے ہجرت کی"۔


غزوہ بدر کے دوران ہی حضرت رقیہ ؓ کا انتقال ہو گیا، حضرت رقیہؓ کی تیمارداری کی وجہ سے ہی حضرت عثمان مدینہ منورہ میں رکے ہوئے تھے مگر رسول اکرم نور مجسم ﷺ کے فرمان ذی شان کے مطابق آپ غزوہ بدر میں لڑنے والے مجاہدین کے اجر و ثواب کے حق دار پائے۔


حضرت رقیہؓ کی وفات کے بعد حضرت محمد آقا رحمت ﷺ نے اپنی دوسری بیٹی حضرت ام کلثومؓ کا نکاح بھی حضرت عثمان ؓ سے کر دیا،اللہ نے حضرت عثمان ؓ اور حضرت رقیہؓ کے درمیان بہت الفت ڈال رکھی تھی، مگر 9ھ میں حضرت ام کلثوم ؓ بھی انتقال فرما گئیں۔


تب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں انہیں بھی یکے بعد دیگرے عثمان کے نکاح میں دے دیتا۔


پیغمبر اسلام کے یہ الفاظ حضرت عثمانؓ کے لیے بہت زیادہ اعزاز کی حثییت رکھتے ہیں، اور ان کے با حیا کردار کو بیان کرتے ہیں۔


آپ ؓ نبی کریم ﷺ کی مجلس شوریٰ کے رکن بھی تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر سفیر رسولﷺ کی حثییت سے مکہ گئے اور سیدنا عثمان ؓ ہی کی ذات وہ مبارک ذات ہے جن کی شہادت کی افواہ سن کر نبی کریم ﷺ نے بدلے کے لیے بیعت لی اور اپنے دست مبارک کو حضرت عثمان ؓ کا ہاتھ قرار دیا۔


آپؓ کا ایک لقب غنی بھی تھا، آپؓ کی سخاوت کے دلنشین واقعات بچے بچے کی زبان پر ہیں۔


سفر تبوک میں نبی کریم ﷺ کو اتنا مال دیا کہ نبی کریم ﷺ اس مال کو ہاتھوں سے پلٹے جاتے اور سیدنا عثمانؓ کے لیے دعائیں کیے جاتے۔


بئر رومہ کے واقعے کو کون فراموش کر سکتا ہے، وہ میرے عثمان ؓ ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو سخت پیاس کے عالم میں بلبلاتے دیکھ کر بڑی حکمت عملی سے میٹھے پانی کا کنواں 35 ہزار درہم میں خرید کر دیا۔


مسجد نبویﷺ کی توسیع کی باری آئی تو حضرت عثمان اس کام میں بھی پیش پیش رہے۔


آپؓ جامع القرآن بھی ہیں، جو کام صدیق اکبر ؓ نے کیا وہی کام سیدنا عثمانؓ نے سر انجام دے کر قرآن کی وہ عظیم خدمت سر انجام دی کہ قیامت تک یاد رکھی جائے گی۔


18 ذی الحجہ 35 ھ کو نبی اکرم نور مجسم ﷺ کے اس محبوب خلیفہ کو ایک عظیم سازش ، جو کہ درحقیقت اسلامی تاریخ کی سب سے اول اور سب سے عظیم سازش تھی ،کے بعد اس عالم میں قتل کر دیا گیا کہ آپ ؓقرآن کی تلاوت کر رہے تھے ، چالیس دن کے پیاسے اور کئی دن کے روزے سے تھے ،اور اپنے ہی گھر میں محصور تھے۔گو کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرام آپ کے گھر کے دروازے پر پہرہ بھی دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود بلوائی آپ کے گھر میں پیچھے کی سمت سے داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔اور عین تلاوت قرآن کی حالت میں خلیفہ وقت اور امیرالمومنین کو شہید کر دیا گیا۔


یہ عظیم سازش جو عبد اللہ بن سبا سمیت متعدد منافقین کی سعی کا نتیجہ تھی درحقیقت صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہی نہیں  بلکہ اسلام اور تمام مسلمانوں کے خلاف تھی اور آپ کی شہادت کے بعد وہ دن ہے اور آج کا دن کہ مسلمان تفرقہ اور انتشار میں ایسے گرفتار ہوئے کہ نکل نہ سکے۔یہ وہ بات تھی جس کی خبر حضرت عثمانؓ  نے پہلے ہی ان الفاظ میں دی تھی کہ" بخدا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر تا قیامت نہ ایک ساتھ نماز پڑھو گئے نہ ایک ساتھ جہاد کرو گے"۔


آپ کی شہادت پر مدینہ میں ایک کہرام برپا ہو گیا ۔حضرت سعید بن زیدؓ نے ارشاد فرمایا  کہ لوگو! واجب ہے کہ اس بد اعمالی پر کوہ احد پھٹے اور تم پر گرے ،حضرت انسؓ نے فرمایا حضرت عثمانؓ جب تک زندہ تھے اللہ کی تلوار نیام میں تھی ، اس شہادت کے بعد یہ تلوار نیام سے نکلے گی اور قیامت تک کھلی رہے گی، حضرت ابن عباس ؓنے ارشاد فرمایا اگر حضرت عثمان کے خون کا مطالبہ بھی نہ کیا جاتا تو لوگوں پر آسمان سے پتھر برستے، حضرت علیؓ کو جیسے ہی شہادت عثمانؓ کی خبر ملی آپ نے فرمایا اے اللہ میں تیرے حضور خون عثمان سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اور ابن کثیر نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حضرت علؓی حضرت عثمان ؓکے پاس جا کر ان پر گر پڑے اور رونے لگےحتیٰ کے لوگوں نے خیال کیا کہ آپ بھی ان سے جاملیں گئے۔


امام اعمش اور حافظ ابن عساکر نے صاحب اسرار رسول اکرم ﷺحضرت حذیفہ بن یمانؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے پہلا فتنہ حضرت عثمان ؓکا قتل ہے اور سب سے آخری فتنہ خروج دجال ہے اور اس ذات کی قسم جس کہ قبضے میں میری جان ہے کہ وہ شخص جس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی حضرت عثمان ؓکے قتل کی حب ہے ، اگر اس نے دجال کو پالیا تو وہ اس کی پیروی کیے بغیر نہیں مرے گا اور اگر اس نے اسے نہ پایا تو وہ اپنی قبر میں اس پر ایمان لائے گا۔


علامہ ذہبی نے حضرت عثمانؓ کے کمالات وخدمات کاذکران الفاظ میں کیاہے "ابوعمرعثمان ،ذوالنورین تھے ۔ان سے فرشتوں کو حیا آتی تھی۔ انھوں نے ساری امت کواختلافات میں بڑجانے کے بعدایک قرآن پرجمع کردیا۔وہ بالکل سچے ،کھرے ،عابدشب زندہ داراورصائم النہارتھے اوراللہ کے راستے میں بے دریغ خرچ کرنے والے تھے،اوران لوگوں میں سے تھے جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے"۔

4 تبصرے:

  1. ماشااللہ الطاف بھائی جان کیا خوبصورت کالم لکھا ہے آپ نے اللہ تعالی آپ کو اسی طرح اور اچھے کالم لکھنے کی ہمت اور توفیق دے آمین۔۔۔۔۔۔۔۔🤲🤲🤲
    اور ساتھ میں آپ سے ایک بات پوچھنی تھی کہ اگر ہمیں اپنے کالم آپ کے بلاگ میں لگانے ہو تو اس کا کیا طریقہ کار ہے کیا ہم لگا سکتے ہیں یا کہ نہیں یا کوئی اس کے لیے کچھ خصوصی ہدایت ہوگی تو برائے مہربانی آپ رہنمائی فرما دے شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت شکریہ احسان بھاٸی
    آپ بھی اپنےکالم اپنے لگاٸیں مجھے زیادہ خوشی ہوگی۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. ماشاءاللہ الطاف بہائی جان آپنے بہت خوبصورت کالم لکہا ہے

    جواب دیںحذف کریں