جمعہ، 6 اگست، 2021

اسلام کو جس کی تلاش تھی


کم کم ہوں گے کہ جو رات کو نکلتے تھے ، دبے پاؤں چلتے تھے ، کبھی غصہ جو کھا جاتے تھے اور گاہے مسکرا کے بات کرتے تھے ....تاریخ نے ان کو سب سب لکھ لیا ، وہ بھی ایسے ہی تھے -
حکمران ایسے کہ آدھ دنیا کی حکومت پاؤں تلے دھری رہتی تھی اور خود کسی پتھر کو سرہانہ بنا سو رہتے تھے - اس دن بھی تو ایسا ہی ہوا تھا کہ دور سمندروں سے دورپار کا پردیسی آیا - پہلے تو مدینے کو دیکھ کے حیران تھا کہ یہ وہ کچی بستی ہے کہ جس کے مکین ہم پر راج کرتے ہیں ، جس کے ہم باج گزار ہیں - پھر پوچھتا پوچھتا مسجد نبی تک آن پہنچا - آدھی دنیا کے حاکم کا پوچھا کہ دربار کہاں ہے - اکھیاں پھٹ نہ جاتی تو کیا کرتیں ؟
اس کو عادت کہ قیصر کے دربار کو دیکھ دیکھ عمر گذری ، یہاں یہ جواب کہ کون سا دربار ، کہاں کا دربار ؟؟
کوئی دربار وربار نہیں بھائی ادھر ...جب نماز کو آتے ہیں تو ادھر ہی بیٹھ جاتے ہیں اور تم لوگوں کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں - "اچھا ملیں گے کہاں ؟" حیرتوں کے بیچ اس نے پوچھا -
"مدینے کے جوار میں نکل جاؤ ، دوپہر ڈھل رہی ہے کسی دیوار کے سائے میں آرام کرتے مل جائیں گے "
پردیسی بستی کو دیکھنے اور خلیفہ کو کھوجنے نکلا - ایک دیوار تلے پتھر کو سرہانہ بنائے ایک طویل القامت ، بہت خوب صورت سا انسان آرام کر رہا تھا - ایک گذرنے والے نے ہولے سے اشارہ کیا کہ یہ رہی تمھاری تلاش -
.................
بڑھیا کی عمر بیت چلی تھی ، مسافر نے احوال پوچھے ، رو دی - بڑھاپے کا سیاپا کرنے لگی - کچھ حالات کی خرابی اور کچھ شکوے کرنے کی عمر - سب جگ سے ناراض بڑھیا داستان لے بیٹھی - مسافر نے تحمل سے داستان سنی ، واپس مدینے آیا اور مقدور بھر سامان خوردو نوش لیا - کندھے پر رکھا ، ساتھ غلام چلا اصرار کہ" سامان مجھے دے دیجئے ، اٹھائے لیتا ہوں "
ادھر اک جملہ اور خاموشی کہ :
"قیامت کے روز بھی میرا بوجھ اٹھا لو گے ؟"
سامان بڑھیا کے سامنے جا ڈھیر کیا - تشکر کے آنسو لفظ بن کے بڑھاپے کے منہ سے نکلے ، دامن پھیلا کے بول اٹھی کہ کاش تو عمر کی جگہ ہمارا خلیفہ ہوتا - مسافر کی آنکھیں چھلک اٹھیں بس یہی کہا اور چل دیئے کہ کل آپ خلیفہ کے پاس آنا ، مجھے ادھر ہی پائیں گی -
بڑھیا نے اگلے روز تجسس کے مارے تلاش کی تو مسافر کو عمر بنا دیکھا ، دل نے کہا کہ یہ رہی تمھاری تلاش -
............
دور دیا ٹمٹما رہا تھا ، شاید کسی کی آس کا دیا کہ گاہے جلے ، بجھے اور پھر روشن ہو جائے - خیمے کے باہر مسافر اداس اور تنہا بیٹھا - تنہائی سی تنہائ - سوچیں کہ کیوں سفر کو نکلا - اندر خاتون درد زہ میں مبتلاء - بچے کی ولادت کا وقت --- نہ کوئی ساتھی خاتون نہ مدد گار - اجنبی بستی کے جوار میں بیٹھا بستی کی دور ہوتی رشنیوں کو تکا کیے لیکن بے کار - سوچیں کہ عمر کی بستی ہے لیکن اس کو کیا خبر ہمارے حال کی -
اندھیرے میں ایک سایہ ابھرا ، قریب آیا - گو شفقت بھرا لہجہ تھا لیکن تنہائ نے مزاج کی شگفتگی بھی چھین لی - سوال کے جواب میں بھی الجھ بیٹھا کہ جاؤ بھائی اپنی راہ لو - ممکن ہے اجنبی کے ساتھ کوئی خاتون ہوتی تو وہ یوں نہ الجھتا ، لیکن ایک اکیلا خالی ہاتھ کا اجنبی مرد اس کی ایسے میں کیا مدد کر سکتا تھا ، سو الجھتا نہ تو کیا کرتا ؟
اجنبی بھی مگر تکرار پے مصر تھا - اسے بتاتے ہی بنی - اجنبی خاموشی سے واپس ہو لیا - اسے عجیب سا لگا ، کچھ تو کہا ہوتا -
امید تو بندھ جاتی ، تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے ، وعدہ تو کیا ہوتا
مایوسی نے امید کے ساتھ مل کے عجیب رنگ کر دیا تھا -
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
کچھ ہی دیر میں دو سائے اندھیرے کی دیوار سے پھوٹے - قریب آئے تو اجنبی کے ساتھ خاتون بھی تھی - ساتھ میں سامان ضرورت - آنے والی خاتون نے آتے ہی چولہا چڑھا دیا ، ہوا میں پکتے روغن کی ہلکی ہلکی خوش بو اور ویرانے میں ملنے والے ساتھ نے اس کو پرسکون کر دیا - اس کے دماغ میں کچھ دیر پہلے خیال آیا تھا کہ کاش بستی کے حکمران ہمارے خلیفہ کو خبر ہوتی کہ کوئی اجنبی اس اجنبی دیار میں ، حد نگاہ تک کے غبار میں ، اس کو یاد کر رہا ہے -
اب مگر سب بھول گیا تھا ، بس ہلکا سا شکوہ کہ ان سے تو یہ اجنبی اچھا ، بس ہلکا سا خیال کہ جو نوک زبان تک نہ آیا ، دماغ میں آیا اور چلا گیا -
کچھ ہی دیر میں اندر سے خاتون کی آواز آئی :
"امیر المومنین ، ساتھی کو خوش خبری دیجئے کہ اللہ نے بیٹا دیا ہے "
امیر المومنین ؟
امیر المومنین ؟
بیٹا بھول گیا ، خوش خبری کی کچھ خبر نہ رہی ، گبھراہٹ نے آن لیا -
اجنبی مگر شفقت بھری مسکان سے کہہ رہا تھا
" ساتھی ، گھبرا کیوں رہے ہو ، عمر کو تم نے نوکر اسی لیے تو رکھا ہوا ہے کہ تمھاری خبر گیری کرے "
دور اندر سے آواز آ رہی تھی
......یہ رہی تمھاری تلاش

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں