بدھ، 28 جولائی، 2021

مسلمان کون ہے ؟

 عربی لغت میں مسلمان کا معنی بیان کیا گیا ہے کہ :”المسلم هو مظهر للطاعة”.’مسلمان وہ ہے جو سراپا اطاعت ہے‘‘

مسلمان کا مطلب ہے دین اسلام کا پیروکار ہونا۔ حضور نبی اکرمﷺ کے نزدیک صرف وہی شخص مسلمان ہے جس کا وجود دوسروں کے لئے منبع  امن و سکون ہو

جس کا وجود اطاعت الہٰی اور اطاعت رسول سے عبارت ہے۔ اس کے وجود میں اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کا رنگ نظر آتا ہے۔

اسی اللہ.نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے، اس سے پہلے اور اس (قرآن) میں بھی تمہارا نام مسلم.ہے”۔

مسلمان وہ ہے جس نے خود کو اسلام میں ڈھال لیا ہے۔ (لسان العرب). 

جس کا وجود چلتا پھرتا اسلام ہے۔ اسلام کی تعلیمات کا عملی اظہار وجود مسلم سے ہوتا ہے۔

هو مومن بها.’’مسلمان وہ ہے جو تعلیمات اسلام پر ایمان رکھتا ہے‘‘

اس کو یقین حاصل ہے کہ اسلام کا ہر عمل اور ہر امر و نہی اس کے نفع کے لئے ہے۔

مسلمان وہ ہے جو اللہ کے حکم کے سامنے جھک جائے۔

یعنی مسلمان وہ ہے جو اللہ کے حکم کو اپنا قول و فعل اور اخلاق و کردار بنائے۔ جو اپنے نفس امارہ کی خواہش سے اٹھنے والے حکم کو ترک کرے اور اس کے بجائے اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردے۔

مسلمان وہ ہے جو عبادت کو اللہ ہی کے لئے خالص کرلے۔

یعنی مسلمان وہ ہے جو ایاک نعبد کا پیکر بن جائے، جو صرف اور صرف اللہ ہی کی عبادت کرے۔ اس کے وجود سے عبادتِ غیر کی ہر صورت کا خاتمہ ہوجائے۔ عبادت میں اس بندے کا اخلاص بڑھتے بڑھتے اس کو ایسا کردے کہ اس کا ہر کام اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :

’’مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور جس کی زبان سے دوسرے مسلمان کے جان و مال اور عزتیں محفوظ رہیں۔‘‘

بخاري، الصحيح، 1 : 13، کتاب الايمان، رقم : 10

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے اور اس میں ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرے ہمارا ذبیحہ کھائے وہ مسلمان ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول نے لے لی ہے۔ پس اللہ کی ذمہ داری کی بے حرمتی نہ کرو۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام انسانی بھیس میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آکر یوں گویاہوئے:

“اے محمد( ﷺ ) مجھے اسلام بتائیے، آپ نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمدؐ اﷲ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم رکھو اورزکوٰۃ دیتے رہو اور رمضان کے روزے رکھو اور حج بیت اﷲ کرو، اگر وہاں جانے کی طاقت ہو۔ اس شخص نے کہا آپ نے سچ کہا۔ ہم متعجب ہوئے کہ پوچھا بھی ہے، پھر تصدیق بھی کرتا ہے۔پھر اس نے کہا مجھے ایمان بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ یہ ہے کہ تم اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اوراس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور قیامت کے دن پر اور تقدیر پر،چاہے اچھی ہویابری،اس شخص نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ ” (مسلم شریف ج۱ص۲۷، کتاب الایمان)

آج کے دور میں مسلمان کئی فرقوں میں بٹ چکے ہیں اگرچہ ان کی اکثریت اسلام کے بنیادی عقائد اور عبادات پر متفق ہے مگر فروعی اختلافات کی شدت نے نفاق کے بیج اس طرح بو دیئےہیں کہ انتشار دن بدن متشدت اوراضافہ پزیرہے- اس معاملہ میں اسلام دشمن قوتیں بھی ملوث ہیں مگر ان کو جوازوہ مسلمان مہیا کر رہے ہیں جودشمنوں کے ہاتھ دانستہ یا نادانستہ طور پرکھلونا بن چکے ہیں-

قرآن پر سب مسلمانوں کا ایمان ہے، جس کو سب مسلمان مکمل طور پر کلام اللہ تسلیم کرتے ہیں، یہی الله کی مظبوط رسی ہے جس کو الله تعالی مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتا ہےاور یہی تفرقہ کے خلاف موثر ترین ڈھال ہے-تفصیلی مطالعہ اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس خطرہ کو اگر ختم نہیں تو کم کرنا ممکن ہے۔

مسلمان اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہو کرفرقہ واریت کی لعنت سے چھٹکارہ حاصل کریں  اورحضرت مُحمدﷺ کے خالص پیروکارکی حثیت سے دین اسلام میں مکمل طور پر داخل جائیں، اسی میں بھلائی ہے یہی صراط مستقیم ہے- 




0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں