جمعرات، 29 جولائی، 2021

اللہ کے ساتھ تجارت

 خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ   کے  زمانۂ خلافت میں   قحط پڑا لوگ بہت پریشان تھے ایک روز حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے فرمایا: آج شام تک اللہ تمہاری پریشانی دور کردے گاچنانچہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ   کے  ایک ہزار اونٹ غلہ سے لدے  ہوئے آئے، مدینہ منورہ  کے  تاجر غلہ خریدنے  کے  لیے حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ   کے  پاس پہنچے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے پوچھا: یہ بتاؤکہ ملک شام سے یہ غلہ جو میرے پاس آیا ہے تم اس پر کس قدر نفع دو گے؟ تاجروں  نے کہا:دس روپیہ  کے  غلہ پر دو روپے،حضرت عثمان ذوالنورین رَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ ملتا ہے، آخر ہوتے ہوتے ان تاجروں  نے کہا: جو مال آپ نے دس روپے میں   خریدا ہے اس کی قیمت پندرہ روپے دیں  گے،حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے فرمایا: مجھے اس سے بھی زیادہ مل رہا ہے،تاجروں نے تعجب سے کہا: وہ زیادہ دینے والا کون ہے مدینہ  کے  تاجر تو ہم ہی لوگ ہیں   ،آپ نے فرمایا: مجھے ایک روپیہ  کے  مال کی دس روپے قیمت مل رہی ہے کیا تم اس سے زیادہ دے سکتے ہو؟ تاجروں  نے انکار کردیا، حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے فرمایا: تم لوگوں  کو میں   گواہ کرتا ہوں  کہ میں   نے یہ سب غلہ اللہ  کی راہ میں   فقراء ِ مدینہ کو دے دیا۔  (سیرت رسول عربی)

الطاف باجوہ

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں