خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے زمانۂ خلافت میں قحط پڑا لوگ بہت پریشان تھے ایک روز حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: آج شام تک اللہ تمہاری پریشانی دور کردے گاچنانچہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے ایک ہزار اونٹ غلہ سے لدے ہوئے آئے، مدینہ منورہ کے تاجر غلہ خریدنے کے لیے حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے پاس پہنچے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے پوچھا: یہ بتاؤکہ ملک شام سے یہ غلہ جو میرے پاس آیا ہے تم اس پر کس قدر نفع دو گے؟ تاجروں نے کہا:دس روپیہ کے غلہ پر دو روپے،حضرت عثمان ذوالنورین رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ ملتا ہے، آخر ہوتے ہوتے ان تاجروں نے کہا: جو مال آپ نے دس روپے میں خریدا ہے اس کی قیمت پندرہ روپے دیں گے،حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: مجھے اس سے بھی زیادہ مل رہا ہے،تاجروں نے تعجب سے کہا: وہ زیادہ دینے والا کون ہے مدینہ کے تاجر تو ہم ہی لوگ ہیں ،آپ نے فرمایا: مجھے ایک روپیہ کے مال کی دس روپے قیمت مل رہی ہے کیا تم اس سے زیادہ دے سکتے ہو؟ تاجروں نے انکار کردیا، حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: تم لوگوں کو میں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے یہ سب غلہ اللہ کی راہ میں فقراء ِ مدینہ کو دے دیا۔ (سیرت رسول عربی)
دائرہ خیال
آمدو رفت
جمعرات، 29 جولائی، 2021
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
مقبول پوسٹس
-
مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ وضع دار انسان تھے۔ان کا نام عثمان، کنیت ابو عمر اور لقب ذوالنورین (دو نور والے)تھا۔آپؓ کے والد کا اسم گرامی عفان بن ...
-
کل پورے پاکستان میں 14اگست سے دھوم سے منائی جائیں گے لیکن چودہ اگست کے حوالے سے آج پورے پاکستان میں گلیاں گلیاں گلی گلی اور شہر شہر سبز رن...
-
*پاکســـتانی ہیـــرے* دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی، بوڑھے شخص نے دروازہ کھولا تو ہمسائے اور اہل محلہ سارے اکٹھے تھے، تیور تو غصے والے تھے...
-
مصر کے ایک مشہور بزرگ شرف الدین بوصیری گزرے ہیں انہوں نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھلی جیسا کہ والدین بچوں کو سکولوں مدرسوں میں تعلیم حاصل...
-
کیا آپ نے یہ سوچا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ نے یہ کیوں فرمایا کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ #چکھنا ہے یہ کیوں نہیں کہا کہ ہر ذی روح کو موت آنی...
-
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 💕 صبح بخیر 🌿 جمعہ مبارک ✨🥀 ہم انسان کیوں ایک دوسرے کو مع...
-
کم کم ہوں گے کہ جو رات کو نکلتے تھے ، دبے پاؤں چلتے تھے ، کبھی غصہ جو کھا جاتے تھے اور گاہے مسکرا کے بات کرتے تھے ....تاریخ نے ان کو سب سب ...
0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں