منگل، 27 جولائی، 2021

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان

 🌺#جنت_کے_خریدار 

              💞#حضرت_عثمان_بن_عفّان_رضی_اللّٰه_عنہ

نور کی سرکار  ص  سے پایہ دو شالا نور کا 

ہو مبارک تجھ کو ذوالنورین جوڑا نور کا 


یوں تو ہر صحابیِ رسول جنّتی ہے مگر کئی صحابۂ کرام رضی اللّٰه عنہ نے زبانِ رسالت سے جنّت کی خوش خبریاں بطورِ خاص پائی ہیں ان میں عشرۂ مُبشّرہ سرِفہرست ہیں ان دس صحابہ میں شامل خلیفۂ ثالث، ذوالنّورین، حضرت سیّدنا عثمان رضی اللّٰه عنہ خود فرماتے ہیں: میں نے دس ہزار درہم کے بدلے جنّت خریدلی ہے۔ 

                         📚(تاریخ ابن عساکر، 39 / 172)


آئیے زبانِ رسالت سے جاری ہونے والے چند مبارک کلمات پڑھتے ہیں جن میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللّٰه عنہ کو جنّت کی نویدِ پُربہار سنائی گئی یا آپ رضی اللّٰه عنہ کو جنّت میں ملنے والے اعلیٰ انعامات اور بلند مقامات کا ذکر کیا گیا ہے۔


🌺#رَفاقتِ_نبی: ایک موقع پر نبی کریم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدتُنا عائشہ صدّیقہ رضی اللّٰه عنھا سے فرمایا: کیا میں تمہیں خوش خبری نہ دوں؟ انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں یَا رسولَ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم! فرمایا: تمہارے والد (ابوبکر) جنّتی ہیں اور جنّت میں ان کے رفیق حضرت ابراہیم علیہ السَّلام ہوں گے، اور عمر جنّتی ہیں ان کے رفیقِ جنّت حضرت نوح علیہ السَّلام ہوں گے، اور عثمان جنّتی ہیں ان کا رفیق میں خود ہوں، اور علی جنّتی ہیں ان کے رفیق حضرت یحیٰی بن زکریا علیھما السَّلام ہوں گے۔ 


                            📚(الریاض النضرۃ، 1 / 35)


🌺#جنّت_کا_ساتھی: ایک مرتبہ حضورِ اقدس صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیّدنا طلحہ رضی اللّٰه عنہ سے فرمایا: اے طلحہ! ہر نبی کے لئے جنّت میں اس کا ایک اُمّتی رفیق (ساتھی) ہوتا ہے اور جنّت میں عثمان بن عفان میرے رفیق اور میرے ساتھ ہوں گے۔ 

          📚(کنز العمال، جز: 11، 6 / 273، حدیث: 32854)


🌺#جنّتی_درخت_کی_شاخ: ایک بار پیارے نبی صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یوں فرمایا: سخاوت ایک جنّتی درخت ہے اور حضرت عثمان اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہیں۔ 


       📚(کنز العمال، جز: 11 ، 6 / 273، حدیث : 32849)


🌺#جنّت_کی_خوش_خبری: حضرت سیّدنا ابو موسیٰ اشعری  رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ سیّدِ عالم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم مدینہ کے ایک باغ میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو رحمتِ عالم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: دروازہ کھول دو اور آنے والے کو جنّت کی خوش خبری دو، دروازہ کھولا گیا تو حضرت سیّدنا ابوبکر صدّیق رضی اللّٰه عنہ تھے پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو جانِ عالم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: دروازہ کھول دو اور آنے والے کو جنّت کی خوش خبری دو، دروازہ کھولا گیا تو حضرت سیّدنا عمر فاروق رضی اللّٰه عنہ تھے پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو نورِ عالم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: دروازہ کھول دو اور آنے والے کو جنّت کی خوش خبری کے ساتھ امتحان اور آزمائش میں مبتلا ہونے کی خبر بھی دو، دروازہ کھولا گیا تو حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰه عنہ تھے۔ 


             📚(مسلم، ص1004، حدیث: 6212 ملخصاً) 


🌺#حُور_سے_نکاح: ایک مرتبہ خلافتِ صدیقِ اکبر میں زبردست قحط پڑا، حضرت عثمانِ غنی رضی اللّٰه عنہ کے ایک ہزار اونٹ مدینے پہنچے جن پر کھانے پینے کی اشیاء لَدی ہوئی تھیں تو حضرت عثمان رضی اللّٰه عنہ نے مدینے کے تاجروں سے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! اس بات پر گواہ ہو جاؤ کہ میں نے یہ تمام اشیاء مدینے کے ضرورت مندوں کے لئے صدقہ کر دی ہیں۔ حضرت سیدنا عبدُاللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنھما فرماتے ہیں: میں جب رات کو سویا تو خواب میں سرکارِ دو عالم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کی، آپ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نور کی چادر پہن رکھی تھی، مبارک ہاتھوں میں نور کی چھڑی اور پاؤں مبارک میں جو نعلین تھے ان کے تسمے بھی نورانی تھے، ارشاد فرما رہے تھے: میں جلدی میں ہوں، عثمان نے ایک ہزار اونٹ کا بوجھ گندم وغیرہ صدقہ کیا ہے۔ اللّٰه پاک نے عثمان کا یہ عمل قبول فرما کر جنّتی حور سے ان کا نکاح فرمایا ہے۔ 

                      📚(الریاض النضرۃ، 2 / 43 ملخصاً) 


🌺#جنّتی_مرد: ایک مرتبہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو حضورِ اکرم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے مُصافَحَہ فرمایا اور جب تک اس شخص نے اپنا ہاتھ نہ کھینچا آپ صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا ہاتھ نہ چھوڑا اس شخص نے پوچھا: یَا رسولَ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم! حضرت عثمان کیسے ہیں؟ ارشاد فرمایا: وہ جنّتی مردوں میں سے ایک مرد ہیں۔

 

                📚(معجم کبیر، 12 / 405، حدیث: 13495)


🌺#جنّتی_حور: ایک مرتبہ رحمتِ عالم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: میں جنّت میں داخل ہوا تو ایک سیب میرے ہاتھ پر رکھ دیا گیا میں اسے الٹ پلٹ رہا تھا کہ وہ سیب پھٹ گیا اور اس میں سے ایک حور نکلی جس کی بھنویں گدھ کے پروں جیسی تھیں میں نے پوچھا: تو کس کے لئے ہے؟ اس نے کہا: ظلماً شہید ہونے والے حضرت عثمان بن عفان کے لئے۔


               📚(کنز العمال، جز: 13، 7 / 29، حدیث: 36257)


🌺#جنّتی_محل: نبی اکرم صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے: میں جنّت میں داخل ہوا تو سونے، موتی اور یاقوت سے بنا ہوا ایک محل دیکھا، میں نے پوچھا: یہ کس کے لئے ہے؟ بتایا گیا کہ آپ کے بعد ظلماً شہید ہونے والے خلیفہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰه عنہ کے  لئے ہے۔ 


                             📚(تاریخ ابن عساکر، 39 / 109)


🌺#جنّتی_بشارتوں_کی_تصدیق: جب امیرُ المؤمنین حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضی اللّٰه عنہ کو خارجیوں نے گھر میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا توحضرت سیّدنا عثمانِ غنی نے دیگر صحابۂ کرام رضی اللّٰه عنھم کو بلوایا اور خارجیوں کے سامنے ان واقعات کی تصدیق کروائی جن میں آپ رضی اللّٰه عنہ کو نبی کریم صلَّی اللّٰه لیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جنّت کی بشارتیں عطا کی تھیں۔


 🌺#مسجد_میں_اضافہ_اور_جنّت: آپ نے فرمایا: تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسولُ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا ہو کہ جو (اونٹوں کے) اس باڑے کو خریدے گا اور ہماری مسجد میں اضافہ کر دے گا اس کے لئے جنّت ہے اور دنیا میں اس کے لئے یہ اجر ہے کہ جب تک مسجد باقی رہے گی اس شخص کے درجات بلند ہوں گے، تو میں نے وہ باڑا 20 ہزار درہم میں خرید کر مسجد کے لئے وقف کر دیا تھا۔


 🌺#لشکر_کی_مدد_اور_جنّت: پھر فرمایا: کیا کوئی ایسا ہے جس نے رسولُ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا ہو کہ جو اس جَیْشِ عُسْرہ (بے سروسامان لشکر) کو سامانِ ضرورت دے گا تو اس کيلئے جنّت ہے تو میں نے اس لشکر کو سازو سامان سے لیس کر دیا تھا۔


🌺#کنویں_کے_بدلے_جنّت: پھر فرمایا: کیا کسی نے رسولُ اللّٰه صلَّی اللّٰه علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے یہ سنا ہے کہ جو رُومَہ کنواں خریدے گا اس کے لئے جنّت ہے، میں نے اسے خرید ا تو میرے آقا صلَّی اللّٰه لیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اسے غریبوں کے لئے کر دو، تمہیں اس کا ثواب بھی ملے گا اور جنّت بھی، حضرت عثمان کی گفتگو سُن کر صحابۂ کرام رضی اللّٰه عنھم نے کہا: ہاں ہم نے ایسا ہی سُنا ہے، لیکن اس پر خارجیوں نے کہا: یہ سچ کہہ رہے ہیں مگر آپ بدل چکے ہیں۔


          📚(کنز العمال، جز: 13، 7 / 44، حدیث: 36332)


🌺#تاریخ_شہادت: حضرت عثمانِ غنی رضی اللّٰه عنہ کی باتوں کا بےحِس خارجیوں پر کچھ اثر نہ ہوا آخر کار جھوٹے الزامات لگا کر آپ رضی اللّٰه عنہ کو بحالتِ روزہ بروز جمعہ 18 ذوالحجہ سِن 35 ہجری کو شہید کر دیا گیا، مزارِ مبارک جنّتُ البقیع میں ہے۔

   📚(معرفۃ الصحابہ، 1 / 264، 271، الاصابہ، 4 / 379)

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں