ہفتہ، 31 جولائی، 2021

اسلامی تاریخ کے پہلے ہسپتال

 اِسلامی تاریخ کا سب سے پہلا باقاعدہ ہسپتال اُموِی خلیفہ ’ولید بن عبدالملک‘ (86ھ تا 96ھ) کے زمانے میں پہلی صدی ہجری میں ہی تعمیر ہوگیا تھا۔ اُس سے قبل ڈسپنسریاں (dispensaries) موبائل میڈیکل یونٹ (mobile medical units) اور میڈیکل ایڈ سنٹرز (medical aid centres) وغیرہ موجود تھے، جو عہدِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں غزوۂ خندق کے موقع پر بھی مدینہ طیبہ میں کام کر رہے تھے۔ اُس ہسپتال میں indoor patients کے باقاعدہ وارڈز تھے اور ڈاکٹروں کو رہائش گاہوں کے علاوہ بڑی معقول تنخواہیں بھی دی جاتی تھیں۔

اِسلامی تاریخ کے اُس دورِ اوائل کے ہسپتالوں میں درج ذیل شعبہ جات مستقل طور پر قائم ہوچکے تھے :

1- Department of Systematic Diseases

2- Ophthalmic department

3- Surgical department

4- Orthopaedic department

5- Department of mental diseases


اُن میں سے بعض بڑے ہسپتالوں کے ساتھ میڈیکل کالج (medical colleges) بھی متعلق کردیئے گئے تھے, جہاں پوری دُنیا کے طلبہ medical science کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ دِمشق کا ’نوری ہسپتال‘ (Noorie Hospital) اور مصر کا ’ابنِ طولون ہسپتال‘ (Ibn-i-Tulun Hospital) اِس سلسلے میں بڑے نمایاں تھے۔ ابنِ طولون میڈیکل کالج میں اِتنی عظیم لائبریری موجود تھی جو صرف medical sciences ہی کی ایک لاکھ سے زائد کتابوں پر مشتمل تھی۔ ہسپتالوں کا نظام دَورِ جدید کے مغربی ہسپتالوں کی طرح نہایت منظم اور جامع تھا اور یہ معیار دِمشق، بغداد، قاہرہ، بیتُ المقدس، مکہ، مدینہ اور اندلس ہر جگہ برقرار رکھا گیا تھا۔ بغداد کا ’اَزدی ہسپتال‘ (Azdi Hospital) جو 371ھ میں تعمیر ہوا، دِمشق کا ’نوری ہسپتال‘ (Noorie Hospital)، مصر کا ’منصوری ہسپتال‘ (Mansuri Hospital) اور مراکش کا ’مراکو ہسپتال‘ (Moroccan Hospital) اُس وقت دُنیا کے سب سے بڑے اور تمام ضروری سہولتوں اور آلات سے لیس ہسپتال تھے۔

اِسلامی تعلیمات کی بدولت ملنے والی ترغیب سے مسلمان تو تعلیم اور صحت کے میدانوں میں ترقی کی اِس اَوج پر فائز تھے جبکہ یورپ کے باسیوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہ تھا۔ مسلمانوں کے علمی شغف کا یہ عالم تھا کہ اِسلامی دُنیا کے ہر شہر میں پبلک اور پرائیویٹ لائبریریوں کی قابلِ رشک تعداد موجود تھی اور بیشتر لائبریریاں لاکھوں کتابوں کا ذخیرہ رکھتی تھی۔ قرطبہ (Cordoba)، غرناطہ (Granada)، بغداد (Baghdad) اور طرابلس (Tarabulus) وغیرہ کی لائبریریاں دُنیا کا عظیم تاریخی اور علمی سرمایہ تصوّر ہوتی تھیں۔

 مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی 

 جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں