جمعہ، 11 نومبر، 2022

ہم انسان کیوں ایک دوسرے کو معاف نہیں کر سکتے؟

       السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 💕

                     صبح بخیر 🌿

                    جمعہ مبارک ✨🥀


ہم انسان کیوں ایک دوسرے کو معاف نہیں کر سکتے؟

کیوں ہم ساری زندگی لوگوں کو انکے کیے گئے گناہوں پر کوستے رہتے ہیں؟ معاف کرنے کی بجائے ہم ہر بار ماضی کے گڑھے مردے اکھاڑ کر انکے زخم تازہ کر دیتے ہیں؟

جب ہم اسکی مخلوق کو معاف نہیں کر سکتے تو ہم کس منہ سے اسی سے معافی مانگتے ہے جو سب کا سانجھا رب ہے۔

وہ تو ہمیں ہمارے گناہ یاد نہیں دلواتا جب ہم اس سے معافی مانگتے ہیں۔وہ تو نہیں ہمارے زخم تازہ کرتا۔وہ تو بس معاف کر دیتا ہے۔

وہ تو کہتا ہے کہ اگر تمہارے گناہوں کا انبار زمیں سے لے کر آسماں تک لگ جائے تب بھی تماری ایک بار دل سے کی گئی توبہ پر میں تمیں معاف کر دوں گا۔بے شک اسی کا اتنا ظرف یے۔بے شک وہی معاف کرنے والا مہربان ہے۔

احسان_کھنڈوعہ# 

جمعرات، 26 اگست، 2021

قصیدہ بردہ شریف لکھنے کی وجہ

 


مصر کے ایک مشہور بزرگ شرف الدین بوصیری گزرے ہیں

انہوں نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھلی

جیسا کہ والدین بچوں کو سکولوں مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھیجتے ہیں اسی طرح بوصیری کو بھی والدین نے مدرسے بھیجنا شروع کیا

اور جلد ہی  آپ نے  قرآن پاک  حفظ کر لیا

اس کے بعد آپکے والد صاحب کی خواہش تھی کہ اب آپ کچھ کام کاج کریں تا کہ گھر سے غربت کا خاتمہ ہو

جبکہ بوصیری ابھی مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ وہ ایک زیادہ روشن مستقبل چاہتے تھے۔۔گھر میں باپ بیٹے کے درمیان کھینچا تانی شروع ہو گئی

آخر کار بوصیری نے اپنی والدہ کو اپنے ساتھ ملا کے والد سے مزید پڑھنے کی اجازت لے لی

اس کے بعد آپ نے تجوید، فقہ اور باقی ضروری مضامین کو پڑھا اور بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا

اس وقت تک آپ ایک دنیادار شخص تھے اور مادی کامیابیوں کو ہی ترجیح دیتے تھے

آپ غربت سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔۔شاعری کا وصف آپ کو اللہ کی طرف سے ودیعت کیا گیا تھا

اب آپ بادشاہوں کی شان میں قصیدے بھی لکھتے تھے اور نئے شعراء کی اصلاح بھی کیا کرتے تھے۔درس و تدریس سے بھی منسلک تھے

ایک دن آپ گھر سے باہر کہیں جا رہے تھے جب ایک شخص نے اپکو روک کے آپ سے پوچھا

کبھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی زیارت ہوئی؟؟

اس شخص کا یہ سوال کرنا امام بوصیری کی زندگی کو بدلنے کا سبب بن گیا

اب امام بوصیری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا بغور  مطالعہ شروع کر دیا

آپ جوں جوں مطالعہ کرتے جارہے تھے آپ کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھتی جا رہی تھی

جوں جوں وقت گزر رہا تھا آپ کے  دل میں نبی آخر الزماں  محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی تڑپ بڑھتی جا رہی تھی

اسی دوران میں انہیں فالج کا حملہ ہوا اور یہ صاحب فراش ہو گئے۔اسی حالت میں پندرہ سال گزر گئے

وہ بادشاہ جن کے قصیدے امام بوصیری لکھتے تھے انہوں نے پلٹ کے نہ پوچھا

آپ بہت دل گرفتگی کے عالم میں ایک رات لیٹے ہوئے تھے۔جب آپ نے سوچا کہ زندگی بھر دنیا کے بادشاہوں کے قصیدے لکھے آج کیوں نہ ان کا قصیدہ لکھوں جن کے سامنے ان بادشاہوں کی کوئی اوقات نہیں

 جب ٹوٹے ہوے دل سے ، سچی محبت کے ساتھ الفاظ نکلے تو وہ اس بارگاہ میں مقبول ہوگئے جس کے بعد وہ الفاظ امر ہو گئے

 اس سے پہلے بھی امام بوصیری نے عرب کے صحراؤں پہ، صحراؤں کے خیموں پہ اور خوش جمال چہروں پہ شاعری لکھی 

 لیکن اس رات وہ اس بدرالدجی،شمس الضحی کی شان بیان کر رہے تھے جن کی خاطر رب نے اس دنیا اور اسکی ہر چیز کو تخلیق فرمایا۔ میرا ایمان یہ ہے کہ یہ کلام  بھی رب  کی ہی دین ہے اور وہی رب ہی اسے انسان  پہ اتارتا ہے 

 جب آپ قصیدہ لکھ چکے تو آپ نے قلم دوات رکھی اور سو گئے

اسی رات  آپ نے خواب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں ہیں اور فرمایا کہ

 اٹھ بوصیری،،

 امام بوصیری نے کہا

،، میں ہزار جانوں سے قربان لیکن کیسے اٹھوں،،

کیونکہ وہ فالج زدہ تھے اور اٹھنے سے قاصر تھے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست شفقت ان کے جسم پہ پھیرا اور فرمایا

،،اٹھ اور مجھے وہ سنا جو تو نے لکھا،،

 امام بوصیری اٹھ بیٹھے اور  جھوم جھوم کے سنا رہے

 مولا یا صلی وسلم۔۔۔ دایما ابا دا

 اے اللہ۔ آپ دائمی اور ابدی سلامتی بھیجئے اپنے محبوب پہ

 میری آنکھیں آپ کی یاد میں آنسو بہا رہی ہیں اور رواں دواں ہیں

 مدینہ پاک سے ٹھنڈی ہوا آرہی ہے۔اندھیری رات میں بجلی چمک رہی ہے

 میرے عشق کا تذکرہ لوگوں تک پہنچ چکا ہے۔ اب میرا راز محبت بھی نہیں چھپ سکتا اور نہ ہی میرا مرض ختم ہو گا

 تیری محبت کی،   میرے آنسو اور میری بیماری گواہی دے رہے ہیں۔میں اپنے عشق کو کیسے چھپا سکتا ہوں

 اے دل۔ اگر تو  حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا عاشق نہیں تو مکہ کو دیکھ کے آنسو کیوں بہاتا ہے

 کیا محبت میں رونے والا عاشق خیال کرتا ہے کہ بہتے آنسوؤں اور سوختہ دل کی آڑ میں محبت کا راز چھپا پاے گا

 تیری آنکھوں کو کیا ہوا ہے کہ تو انہیں آنسو روکنے کیلئے کہتا ہے اور یہ  بہائے جا رہی ہیں

 تیرے دل کو کیا ہو گیا ہے کہ سنبھلنے کی بجاے مزید غمناک ہو رہا ہے

 جب رات مجھے محبوب(صلی اللہ علیہ وسلم) کا خیال آیا تو میں رات بھر جاگتا رہا۔

 درد محبت نے میرے چہرے پہ آنسو اور رخساروں پہ  زردی پیدا کر دی ہے

اے غریبوں کا خیال رکھنے والے

اے دل گیروں کی دلجوئی کرنے والے

اے مظلوموں کا ہاتھ پکڑنے والے

اے سچ کہنے والے

سے گناہگاروں کا پردہ رکھنے والے

اے ازل کا نور

اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔آپکے منہ میں آپ کے دانت ایسے ہیں جیسے سیپ کے اندر قیمتی موتی

اے اللہ آپ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پہ ابدی اور دائمی سلامتی نازل فرمائیں

اب امام بوصیری جھوم جھوم کے پڑھ رہے ہیں اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی محبت کو قبول فرماتے ہوئے ان کے ساتھ سن رہے ہیں

جب قصیدہ ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے خوش ہوے کہ انہوں  نے اپنی چادر(بردہ) اتار کے انہیں مرحمت فرمائی

اس کے ساتھ ہی انکی آنکھ کھل گئی۔ دیکھا تو چادر ان کے پاس ہی رکھی ہوئی تھی

وقت دیکھا تو تہجد کا وقت تھا

امام بوصیری پندرہ سال کے بعد ہشاش بشاش صحت مند اٹھے ۔ فالج کا کہیں دور دور تک نام و نشان بھی نہیں تھا وضو کیا اور مسجد کا رخ کیا کہ تہجد ادا کریں

گھر سے نکلے تو ایک فقیر نے آواز لگائی

،،ہمیں بھی تو سناؤ وہ قصیدہ،،

امام  بوصیری نے تجاہل عارفانہ سے کہا

کونسا؟؟

وہی جس کے بدلے یہ بردہ بھی ملا

مجذوب نے چادر کی طرف اشارہ کیا اور آنکھوں سے اوجھل ہو گیا

اس قصیدے میں 100 سے اوپر اشعار ہیں اور کسی شعر میں لفظ ،، بردہ،، استعمال نہیں ہوا

لیکن جو چادر آپ کو دی گئی اس کی مناسبت سے اس کا نام قصیدہ بردہ شریف زبان زد خاص و عام ہوا

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو شرف قبولیت سے نوازا تو آج تک اس کا ورد جاری ہے

مولا یا صل وسلم۔ دایما ابدا

پیر، 16 اگست، 2021

بڑے بے آبرو هوکر ترے کوچے سے هم نکلے!

 بڑے بے آبرو هوکر ترے کوچے سے هم نکلے!

انصار عباسی

 16 اگست ، 2021




افغان طالبان کابل کے قریب پہنچ چکے۔ افغانستان کے دارالحکومت کے علاوہ تقریباً ہر اہم شہر پہلے ہی طالبان کے قبضہ میں آچکا۔ جس تیزی سے طالبان افغانستان پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں، اُس کو دیکھا جائے تو اب کسی بھی وقت کابل پر ان کا قبضہ ہوجائے گاجن کی حکومت کو آج سے بیس سال قبل امریکا نے تقریباً پوری دنیا کی مدد سے ختم کیا تھا اور یہ سمجھا جا رہا تھا کہ طالبان اب تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔ دنیا حیران و پریشان ہے کہ افغان طالبان میں ایسا کیا تھا کہ اُنہوں نے امریکا نیٹو فورسز، بھارت سمیت سب کو زیر کر دیا اور زیر بھی ایسے کیا کہ بہت سے وہاں ذلیل و خوار ہوئے۔ اس ذلت کا سب سے بڑا سامنا امریکا اور بھارت کو کرنا پڑ رہا ہے۔کھربوں ڈالرز لگائے گئے، چار لاکھ کی افغان فوج کھڑی کی گئی، پہلے حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی کے ذریعے افغانستان کو امریکا و بھارت کے مفاد کیلئے استعمال کرنے کا بڑا کھیل شروع کیا گیا‘ جس کا ایک اہم نشانہ پاکستان بھی تھا لیکن طالبان نے سب کھیل تباہ کر دیا۔ افغان فوج ریت کی دیوار ثابت ہو رہی ہے، وار لارڈ جنرل عبدالرشید دوستم کی طرح بڑے بڑے طالبان مخالف جنگجو ملک سے فرار ہو رہے ہیں، کئی چھپ گئے، بیشتر نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور اُن کی پناہ میں آگئے، افغان سیکیورٹی فورسزکسی ایک مقام پر بھی طالبان سے لڑتی دکھائی نہ دیں بلکہ جہاں بھی اُن کا طالبان سے سامنا ہوتا ہے وہاں ہتھیار ڈال دیے جاتے ہیں۔پاکستان مخالف افغان صدر کرزئی کے پاوں بھی اکھڑ چکے، اب تو بین الاقوامی میڈیا بھی اشرف غنی کے مستعفی ہونے اور ملک چھوڑ کے بھاگنے کی خبریں دے رہا ہے۔حکومت کے کئی اہم اہلکار پہلے ہی ملک چھوڑ چکے۔ حالت یہاں تک پہنچ چکی کہ اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھنے والا امریکا اب طالبان کی منتوں پہ اتر آیا ہےکہ کابل میں موجود امریکیوں کو نکلنے کا محفوظ رستہ دیا جائے۔ بھارت جو امریکا کی آشیر باد سے علاقے کا چوہدری بننے کے خواب دیکھ رہا ہے اور جس نے گزشتہ 20 سال کے دوران افغانستان کی کٹھ پتلی کرزئی اور اشرف غنی حکومتوں کے دوران اور امریکا کی مکمل حمایت سے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشتگردی کے لیے خوب استعمال کیا۔ امریکا و بھارت کی مثال تو ’’بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے‘‘ والی ہو گئی۔ بھارت نے افغانستان میں موجود اپنے ایک درجن سے زیادہ قونصل خانے بند کر دیے۔ یاد رہے کہ یہی قونصل خانہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے اڈوں کے طور پر استعمال ہوتے رہے اور ہو رہے ہیں۔ امریکا و بھارت کے کھربوں ڈالرز ڈوب گئے، اُن کے تمام شر انگیز کھیل طالبان نے زیرو کر دیے۔ اب دیکھنا ہے کہ کابل کو کتنے دن تک طالبان سے بچایا جا سکتا ہے؟ ذلت کی شکار قوتیںاسی دوران خوب پروپیگنڈہ بھی کر رہی ہیں۔غنی اور مودی کا اب بھی سارا زور یہ جھوٹ پھیلانے پر ہے کہ اس سارے کھیل کے پیچھے پاکستان ہے، الزام لگایا جا رہا ہے کہ پاکستان طالبان کی حمایت کے لیے افغانستان میں جنگجو بھیج رہا ہے۔ اگر بھارت اور افغان حکومتوں کا پرپیگنڈہ سچ ہے تو کیا پاکستان نے افغان سیکیورٹی فورسز کو ہر جگہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔ بھارت کو غنی سے اتنی ہمدردی ہے تو اپنے قونصل خانے کیوں بند کیے؟ امریکا و نیٹو نے مزہ چکھ لیا، اب بھارت اپنی فوج افغانستان بھجوا کر غنی حکومت کی مدد کیوں نہیں کرتا اور جو پاکستانی جنگجو افغانستان جا رہے ہیں اُنہیں پکڑ کر دنیا کے سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا؟ بھارت اور غنی و کرزئی جیسے افغان، جنہوں نے بیرونی افواج کی اپنے ملک پر قبضہ کی حمایت کی‘ اُن کی تکلیف تو سمجھ آتی ہے لیکن نہیں معلوم ہمارے پاکستان میں ایک چھوٹا سا طبقہ بھارت و امریکا کی ذلت اور پاکستان دشمن غنی کی کٹھ پتلی حکومت کی شکست پر اتنا پریشان کیوں ہے؟ یہ لوگ نجانے کیسی خفگی میں ہیں کہ بعض اوقات وہ زبان بولتے ہیں جو غنی کی ہے‘ جو مودی کی ہے اور جس کا نشانہ پاکستان ہے۔ بھارت نے کرزئی و غنی حکومتوں کی مدد اور امریکا کی سپورٹ سے پاکستان میں خوب دہشت گردی کروائی۔ ان پاکستان دشمن قوتوں کو اگر طالبان نے ذلیل کر دیا، اُن کے کھیل کو تباہ برباد کر دیا تو اس پر ہمیں کیوں پریشان ہونا چاہیے۔ اب تک طالبان کی طرف سے افغانستان میں جو قبضہ کیا جا رہا ہے وہ عمومی طور پر پر امن رہا اور خون خرابہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ طالبان کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ نہ کوئی عمارت گرائیں گے، نہ ہتھیار ڈالنے والوںسے کوئی زیادتی کریں گے۔ اچھا ہو اگر افغانستان میں مسلمان مسلمان کا خون نہ بہائے۔ خون خرابے کے بغیراگر کابل بھی طالبان کے قبضہ میں آ جاتا ہے اوروہاں موجود غیر ملکیوں اور سفارت کاروں کو بھی باہر نکلنے کا محفوظ رستہ دیا جاتا ہے یا اُن کا بھی تحفظ کیا جاتا ہے تو اس سے طالبان اگر افغانستان میں اپنی حکومت دوبارہ قائم کر لیتے ہیں تو ممکن ہے کہ اس سے اُن کی حکومت کو دنیا کے مختلف ممالک تسلیم کرنا شروع کر دیں۔

جمعہ، 13 اگست، 2021

بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں

 ایک ایسی تحریر جس کو پڑھ کر  اپ کی انکھوں میں انسو اجاے گے 


بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں 

میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عید شب رات کبھی بھی  ابو یا امی جاتے ہیں 

میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی 

آپ کی بہن جب بھی آتی ہے 

اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں 

خرچ ڈبل ہو جاتا ہے 

اور تمہاری ماں 

ہم۔سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے کبھی سرف کے ڈبے 

اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے 

اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں 


 مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے 

بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا 

میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا 

ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس 

اور یہ جو آپ صابن سرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کریں سب 

ماں چپ رہی 

لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری 

بہن کچھ نہ بولی 


4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ او 

میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن 

لیکن وہ مسکرائی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں 


پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا  ہو رہا تھا تو 

میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمیں  سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا 

بہن سامنے بیٹھی تھی 

وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں  بہن کو حصہ نہیں دوں گا 

میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی 

وہ بیچاری خاموش تھی 


 بڑابھای علدہ ہوگیا کچھ وقت کے بعد   

میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی 

میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں تھا

بہت پریشان تھا میں 

قرض بھی لے لیا تھا لاکھ روپیہ


بھوک سر پہ تھی 

میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شاید رو رہا تھا حالات پہ 

اس وقت وہی بہن گھر آگئی 

میں نے غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحوس

میں نے بیوی کو کہا کچھ تیار کرو بہن کےلیے

بیوی میرے پاس آئی 

کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کے لیئے 


پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی 

بھائی پریشان ہو 

بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری 

گود میں کھیلتے رہے ہو 

اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو 

پھر میرے قریب ہوئی 

اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے 

آہستہ سے بولی 

پاگل توں اویں پریشان ہوتا ہے 

بچے سکول تھے میں سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔ 

یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر 

بیٹے کا علاج کروا  

شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم۔نے 

میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا 

وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم۔کو میری قسم  ہے 

میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے 


شاید اس کی جمع پونجی تھی 

میری جیب میں ڈال۔کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا

پریشان نہ ہوا کر 


جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا دیکھ اس نے بال سفید ہو گئے 


وہ جلدی سے جانے لگی 

 اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی 

پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی 


 بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا 

ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں 

بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں  کر سکتیں 

وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا


اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں

 اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوتی ہیں 

کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں

شاید کے  ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیئے ایک سکون آ جائے، ،،،


بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں😢

اللہ پاک سب بھاہیوں کو ھدیت دے

پاکستان بھر میں 14 اگست کے کی تیاریاں کی جارہی ہیں

کل پورے پاکستان میں 14اگست سے دھوم سے منائی جائیں گے لیکن چودہ اگست کے حوالے سے آج پورے پاکستان میں گلیاں گلیاں گلی گلی اور شہر شہر سبز رنگ ہلالی پرچم میں سبز ہوئے پڑے ہیں ماشاء اللہ  اور سب کے جوش و خروش   یوم یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اوئے آپنے گھروں میں اور گاڑیوں پر جھنڈے سبز ہلالی لہرا رہے ہیں



بدھ، 11 اگست، 2021

ایسے ملی تھی آزادی

  ایک اندازے کے مطابق 1947 میں دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت عمل میں آئی تھی۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد کم و بیش ایک کروڑ 40 لاکھ تھی، جن میں 80 لاکھ مسلمان تھے جو پاکستان آئے تھے اور 60 لاکھ ہندو اور سکھ پاکستان سے بھارت گئے تھے۔اس دوران 10لاکھ سے زائد مسلمان مردوں ،عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو شہید کیاگیا ، لاکھوں زخمی اور لاکھوں عمر بھر کیلئے معذور ہوگئے۔ڈیڑھ لاکھ کے قریب جوان مسلمان لڑکیاں اورعورتیں اغوا کرلی گئیں۔جان و مال اور عزت وآبروکے تحفظ سے محروم ستر سے اسی لاکھ مسلمان ہندوستان کے مختلف علاقوں سے راستے میں اپنے پیاروں کو گنواتے ،کٹتے ہوے خالی ہاتھ پاکستان آئے۔ تب جا کر پاکستان بنا۔ آزادی کی قدر کریں

پیر، 9 اگست، 2021

آزادی کا تصور

 14 اگست، آزادی، اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی غیر تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس روز ایسے بینر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں، جن پر آزادی کے شہیدوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ 14 اگست اور آزادی کا تصور محض ایک خالی خولی نعرے میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، ہلڑ بازی اور لاقانونیت اس دن کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔


پاکستان بنانے کے لیے بزرگوں ، نوجوانوں ، بچوں ، یعنی مسلمانوں نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔۔

14 اگست 1947ء کا سورج برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا پیامبر بن کر طلوع ہوا تھا۔ مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ انگریزوں بلکہ ہندؤوں کی متوقع غلامی سے بھی ہمیشہ کے لیے نجات ملی تھی۔ آزادی کا یہ حصول کوئی آسان کام نہیں تھا جیسا کہ شاید آ ج سمجھا جانے لگا ہے۔ نواب سراج الدولہ سے لے کر سلطان ٹیپو شہید اور آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر تک کی داستاں ہماری تاریخ حریت و آزادی کی لازوال داستان ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے المناک واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سات سمندر پار سے تجارت کی غرض سے آنے والی انگریز قوم کی مسلسل سازشوں، ریشہ دوانیوں اور مقامی لوگوں کی غداریوں کے نتیجے میں برصغیر میں مسلمانوں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے ختم ہوتی چلی گئیں۔ اگرچہ مسلمان حکمرانوں اور مختلف قبائل کے سرداروں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اور جان و مال کی عظیم قربانیاں دے کر انگریزوں کو یہاں تسلط جمانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کیں تھیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا خوبصورت بات کی تھی۔: پاکستان اسی دن یہاں قائم ہو گیا تھا، جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا:۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت اور بغاوت کے واقعات وقفے وقفے کے ساتھ بار بار سامنے آتے رہے تھے۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں اور جو بے مثال جدوجہد کی ہے۔ یہ ان کے اسلام اور دو قومی نظریے پر غیر متزلزل ایمان و یقین کا واضح ثبوت ہے۔ انہی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔

جب ہم تحریک پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس تاریخی جدوجہد میں یہ بات سب سے زیادہ نمایاں طور پر ہمیں نظر آتی ہے کہ مسلمان اپنے جداگانہ اسلامی تشخص پر مصر تھے۔ یہی نظریہ پاکستان اور علیحدہ وطن کے قیام کی دلیل تھی۔ ہر قسم کے جابرانہ و غلامانہ نظام سے بغاوت کرکے خالص اسلامی خطوط پر مبنی نظام حیات کی تشکیل ان کا مدعا اور مقصود تھا۔ جس کا اظہار و اعلان قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار اپنی تقاریر اور خطابات میں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے کونے کونے میں: لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ؛ اور پاکستان کا مطلب کیا؟، لا الہ الا اللہ

یہ نعرے برصغیر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان تھے۔

عرصہ دراز سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو آزادی ملنے کی امید پیدا ہو چلی تھی۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر انگریزوں کے چلے جانے کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندو بنیا کی غلامی میں چلے جائیں گئے۔ وہ ہر طرح کے سامراج سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دی جاسکتی تھی، مگر اس مقصد سے پیچھے ہٹنا انہیں گوارا نہ تھا۔

پاکستان کا قیام شب قدر، جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک 1368ھ بمطابق 14 اگست 1947ء عمل میں آیا۔ ظہور پاکستان کا یہ عظیم دن جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک اور شب قدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، محض اتفاق نہیں ہے بلکہ خالق و مالک کائنات کی اس عظیم حکمت عملی کا حصہ ہے

13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا:-

” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں”